سوال

ایک آدمی کے پاس ایک تولہ سونا اور کچھ سامان تجارت ہے جس کی قیمت ایک تولہ سونے سے کم ہے،اس شخص پر زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

سامان تجارت کو ایک تولہ سونے کی قیمت کے ساتھ ملا کر دیکھیں گے،اگر ان دونوں کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سےزیادہ ہو جائے تو اس پر زکوۃ فرض ہو گی۔
آج کل صرف ایک تولہ سونے کی قیمت ہی ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے اور سامان تجارت ملنے کے بعد تو یقیناً آدمی صاحب نصاب ہو جائے گا،اس لیے صورت مسئولہ میں زکوۃ فرض ہو گی۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(3/270 ،رشیدیة)
و)فی(عرض تجارۃ قیمتہ نصاب)الجملۃ صفۃ عرض وہو ھنا ما لیس بنقدٍ۔۔۔(من ذھب او ورق)ای فضۃٍ مضروبۃٍ فافاد انّ التقویم انّما یکون بالمسکوک عملاً بالعرف(مقوّماً باحدھما)ان استویا فلو احدھما اروج تعیّن التقویم بہٖ ولو بلغ باحدھما نصابا وخمساوبالآخر اقلّ قوّمہ بالانفع للفقیر
وفی الفتاوی الھندیة:(1/179 ،رشیدیة)
الزکوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب۔۔۔۔۔ ویتقوّم بالمضروبۃ۔۔۔۔۔۔ثم فی تقویم عروض التجارۃ التخییر یقوّم بایھما شاء من الدراہم والدنانیر الا اذا کانت لا تبلغ باحدھما نصابا فحین اذٍ تعیّن التقویم بما یبلغ نصاباً
وکذا فی البحر الرائق:(2/400 ،رشیدیة) وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/365 ،الطارق)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(2/191 ،دار المعرفة) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(3/164 ،فاروقیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلّتہ:(1871 ،رشیدیة) وکذافی تبیین الحقائق:(1/279 ،امدادیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/163 ،دار احیاء التراث) وکذا فی الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/515 ،حقانیة)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
21/02/1443 /2021/09/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔