الجواب باسم ملھم الصواب
اگر مریض کاعذراتنے وقت کے لیے بھی نہیں رکتا کہ جس میں وضو کر کے نماز پڑھ سکے اور اسی حالت میں نماز کاپورا وقت گذر جائے تو ایسا شخص شرعا معذور ہے ، ایسے شخص کے وضو اور نماز کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ایسا شخص ایک نماز کے وقت میں وضو کرلے پھر اس وضو سے اس وقت میں جتنی چاہے فرض اور نفل نمازیں ادا کر سکتا ہے ،اس نماز کاوقت ختم ہونے سے وضو بھی ٹوٹ جائےگا پھر دوسرے وقت کے لئے اس شخص کو دوبارہ وضو کرنا ہو گا۔
جس آدمی کو قضائے حاجت کےلیے بیگ لگایا جاتا ہے عموما اس کی صورت حال بھی یہی ہو تی ہے، لہذا وہ بھی مذکورہ طریقے کے مطابق وضو اور نماز اداکرےگا اور شرعا معذور ہوگا اور معذور آدمی صحیح لوگوں کا امام نہیں بن سکتا،لہذا یہ آدمی صحیح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکتا۔
لما فی الدر المختار :(1/553،رشیدیہ)
(وصاحب عذرمن بہ سلس بول)لا یمکنہ امساکہ—-(ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لا یجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضا ویصلی فیہ خالیا عن الحدث (ولوحکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذاشرط)العذر(فی حق الابتداء وفی)حق(البقاء کفی وجودہ فی جزء من الوقت)ولو مرۃ—— وفی حق الزوال یشترط(الاستیعاب الانقطاع)تمام الوقت (حقیقۃ) لانہ الانقطاع الکامل-(وحکمہ الوضوء)لا غسل ثوبہ ونحوہ(لکل فرض)اللام للوقت کما فی (لدلوک الشمس)(ثم یصلی) بہ (فیہ فرضا ونفلا)فدخل الواجب بالاولی (فاذا خرج الوقت بطل)”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/266،م:طارق)
“السلامۃمن الاعذار،فلایجوز اقتداء صاحب عذربصاحب عذرآخر، لانہ اقتداء طاھر بمعذور من جھۃ فان عذر المعذورفی حق نفسہ بمنزلۃ المعدوم، لکنہ معتبر فی حق غیرہ”
وفی الخانیۃ :(1/89،رشیدیہ)
“ولا یصح اقتداء الکاسی بالعاری ولااقتداء الصحیح بصاحب العذر”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ(1/442،رشیدیہ) وکذا فی الشامیۃ:(1/578، ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیۃ: (2/258،فاروقیہ) وکذافی البحرالرائق:(1/630،رشیدیہ)
وکذافی الھندیۃ:(1/84،رشیدیہ) وکذافی خلاصۃ الفتاوی:(1/146،رشیدیہ)
وکذافی موسوعۃ الفقھیۃ:(6/209،رشیدیہ) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2/1198،رشیدیہ)
وکذا فی اللباب:(1/92،قدیمی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440، 2019/02/02
جلدنمبر :17 فتوی نمبر:132