الجواب حامداً ومصلیاً
پل صراط کی مسافت کی متعین مقدار کسی صحیح حدیث سے تو ثابت نہیں ،بلکہ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسافت ہر آدمی کے اعمال کے اعتبار سے مختلف ہو گی،لہذا بعض لوگ اپنے ایمان و اعمال کی پختگی کی وجہ سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے اور ان کے لیے یہ مسافت لمحہ بھر کی ہو گی،بعض ہوا کی رفتار سے ،بعض گھوڑے کی رفتار سے گزر جائیں گے اور بعض اس کو پار نہیں کر سکیں گے اور وہ جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔
لما فی مجمع الزوائد:(10/472،بیروت)
عن عائشة قالت: «قلت: يا رسول الله، هل يذكر الحبيب حبيبه يوم القيامة. . . . .. ولجهنم جسر أرق من الشعرة، وأحد من السيف، عليه كلاليب وحسك، تأخذ من شاء الله، والناس عليه كالطرف، وكالبرق، وكالريح، وكأجاويد الخيل، والركاب، والملائكة يقولون: رب، سلم! سلم! فتموج: فسالم، ومخدوش سلم، ومكور في النار على وجهه»
البتہ بعض ضعیف روایات میں اس کی تحدید بھی کی گئی ہے،چنانہ ابن عساکر کی روایت میں 3 ہزار سال کی مسافت بیان کی گئی ہے: ایک ہزار سال اوپر چڑھنے کی ایک ہزار سال نیچے اترنے کی اور ایک ہزار سال درمیانی مسافت ہے،ایک اور رویت میں 15 ہزار سال کی مسافت بیان کی گئی ہے۔ لیکن محدثین نے ان سب روایات کو ضعیف و منکر قرار دیا ہے۔
وفی تاریخ دمشق لابن عساکر:(33/262،شاملہ)
عن الضحاك عن عبد الله بن عباس قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) إن لملك الموت حربة مسمومة طرف لها بالمشرق وطرف لها بالمغرب يقطع بها عرق الحياة والذي لا إله إلا هو والذي نفس محمد بيده والذي بعثني بالحق نبيا إن معالجته أشد من ألف ضربة بالسيف وألف نشرة بالمناشير وألف طبخة في القدور وإن الصراط مسيرة ثلاثة آلاف عام ألف طالع وألف نازل وألف استوى أدق من الشعر وأحد من السيف ثم قال والذي بعثني بالحق نبيا من أكرم عالما مات ولم يعلم وجاز الصراط ولم يعلم الصواب جويبر والحديث منكر
وفی مختصر تاریخ دمشق:(14/88،شاملہ)
وإمام خراسان بسنده إلى عبد الله بن عباس قال: قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. . . . . .وإن الصراط مسيرة ثلاثة آلاف عام، ألف طالع وألف نازل وألف استواء، أدق من الشعر وأحد من السيف، ثم قال: والذي بعثني بالحق نبياً من أكرم عالماً مات ولم يعلم وجاز الصراط ولم يعلم قال الحافظ: الحديث منكر
وکذافی کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری:(9/321،شاملہ)
وکذافی تفسیر البغوی:(4/489،بیروت)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(20/97،بیروت)
وکذافی عمدة القاری:(19/292،بیروت)
وکذافی تفسیر الخازن:(4/408،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المظھری:(7/412،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/2021/1442/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:2