سوال

ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد دو تین مرتبہ سانس لیکر فوت ہو گیا ، کیا اس کو غسل دیا جائے اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

صورت مسئولہ میں اس بچے کا عام انسانوں کی طرح کفن اور نماز جنازہ سب ہو گا۔

لما فی التنویر وشرحہ:(3/152،رشیدیہ)
ومن ولد فمات يغسل ويصلى عليه) ويرث ويورث ويسمى (إن استهل) بالبناء للفاعل: أي وجد منه ما يدل على حياته بعد خروج أكثره
وفی البحر:(2/329،رشیدیہ)
وفي الشرع أن يكون منه ما يدل على حياته من رفع صوت أو حركة عضو، ولو أن يطرف بعينه وذكر المصنف أن حكمه الصلاة عليه ويلزمه أن يغسل وأن يرث ويورث وأن يسمى، وإن لم يبق بعده حيا لإكرامه؛ لأنه من بني آدم
وکذافی الھندیہ:(1/163،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/392،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة:(1/274،قدیمی)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/10،فاروقیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/216،بشری)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1533،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/597،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/7/1442/2021/2/25
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 145

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔