سوال

ایک جامعہ میں ایک دارالاقامہ کےاندر طلباء کی رہائش ہے۔ جمعہ کے دن مقررہ وقت پر اس کا گیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔بعض دفعہ کچھ طلباء اس دارالاقامہ میں موجود ہوتے ہیں کہ باہر سے گیٹ بند ہوجاتا ہے۔جامعہ کی مسجد میں جمعہ ادا ہوجانے کے بعد دروازہ کھلتا ہے۔اگر طلباء اس دارالاقامہ میں اپنی جمعہ کی نماز خطبہ کے ساتھ ادا کرلیں تو کیا حکم ہے؟حالانکہ دروازہ کھل جانے کے بعد باہر شہر کی دوسری مساجد میں جمعہ ادا کر سکتے ہیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اذن عام نہ ہونے کی وجہ سے دارالاقامہ کے اندر نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(2/1297،رشیدیہ)
والثاني الإذن العام: وهو أن تفتح أبواب الجامع ويؤذن للناس بالدخول إذناً عاماً، بأن لا يمنع أحد ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه
وفی المحیط البرھانی:(2/464،بیروت)
والشرط السادس: الإذن العام، وهو أن تفتتح أبواب الجامع، ويؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا الأبواب على أنفسهم وجمعوا لم يجزئهم ذلك
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/319،الطارق)
و یشترط أن تؤدی فی مکان عام یسمح بدخولہ لجمیع الناس و لو اغلق جماعۃ باب الجامع و صلوا فیہ الجمعۃ لایجوز
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(201،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/327،الحقانیہ)
وکذافی الدرالمختار:(3/28،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/28،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(27/203،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(510،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/148،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 82

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔