سوال

ایک جوڑے کی شادی کو تین سال ہو چکے ہیں ،میاں بیوی میں ساس کی وجہ سے اکثر جھگڑا رہتا تھا،جھگڑے کی وجہ اولاد کا نہ ہونا ہے۔ساتھ ساس ہر وقت طعنے دیتی رہتی تھی،جس کے نتیجے میں شوہر نے ماں کے کہنے پر بیوی کو گھر سے نکال دیا ،صلح کی کوشش کی گئی مگر لڑکے کا غرور ختم نہ ہوا،الٹا اس نے بیوی کا سارا سامان اس کے گھر واپس بھیج دیا،جب لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا،اس پر لڑکی کے بھائی نے طیش میں آکر لڑکے سے گن پوائنٹ پر طلاق لے لی،اب لڑکا پچھتارہا ہے اور کہ رہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی میں نے صلح کرنی ہے،میں نےطلاق نامہ پر صرف دستخط کیے تھے،میرے دل میں کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی میری زبان پر کوئی جنبش تھی،جبکہ لڑکی بھی یونین کونسل میں پیپر پر سائن کر آئی ہے،علیحدگی کو تقریبا ایک مہینہ ہو گیا ہے،قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا اس صورتحال میں طلاق واقع ہو گی یا کوئی گنجائش باقی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

اگر واقعی خاوند کو طلاق نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیااور اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہی اس نے زبان سے تلفظ کیاتو طلاق واقع نہ ہوئی عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے۔

لما فی الشامیہ:(4/428،رشیدیہ)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية
وفی المحیط البرھانی:(4/486،داراحیاء)
وفي «فتاوى أهل سمرقند» : إذا أكره الرجل بالحبس والضرب على أن يكتب طلاق امرأته فكتب فلانة بنت فلان طالق لا تطلق لأن الكتاب من الغائب جعل بمنزلة الخطاب من الحاضر باعتبار الحاجة، ولا حاجة ههنا حيث احتيج إلى الضرب
وکذافی الھندیہ :(1/379،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/221،حقانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/532،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/429، رشیدیہ)
وکذا فی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(6/131، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/18/03
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 66

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔