الجواب حامداًومصلیاً
اگر حمل کی وجہ سے خدانخواستہ عورت یا دودھ پیتے بچے کی جان کو خطرہ ہو یا کسی بڑی بیماری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو چار ماہ سے پہلے ماہر اور دین دار ڈاکٹر سے مشورہ کر کے حمل ساقط کروا دیا جا سکتا ہے، صرف بچوں کی تربیت کے لئے حمل کو ساقط کرنا جائز نہیں۔
لمافی المحیط البرھانی:(8 /84،ادارة القرآن)
امراۃ مرضعۃ ظھر بھا حبل وانقطع لبنھا ویخاف علی ولدھا الھلاک، ولیس لاب ھذا سعۃ حتی یستأجر الظئر، ھل یباح لھا ان تعالج فی اسقاط الولد قالوا یباح مادام نطفۃ او علقۃ او مضغۃ لم یخلق لہ عضو لانہ لیس بآدمی
وفی الشامیة:( 9/709،دار المعرفة)
وجاز لعذر)کالمرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا ولیس لابی الصبی مایستأجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوا یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ او علقۃ و لم یخلق لہ عضو وقد روا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما.”
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/410،رشیدیہ)
اذا اسقطت بغیر عذر الا انھا لاتأثم اثم القتل المرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا و لیس لابی الصغیر ما یستأجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوا یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل نطفۃ او علقۃ او مضغۃ لم یخلق لہ عضو قد رواتلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما
وکذافی الھندیة :(5/356،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق :(8/376،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(18/204،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(5/204،طارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2647،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19،5،1443/2021،12،24
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:45