سوال

ایک خاتون کا نکاح موبائل فون پر دبئی میں موجود ایک شخص سے کروایا گیا ہے۔ دبئی میں موجود شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقررہ نہیں کیا گیا تھا، فون پر ایجاب و قبول ہوا ہے۔ نکاح نامہ تحریر کیا گیا ہے جس پر لڑکی کے دستخط لیے گئے ہیں۔ مندرجہ بالا صورت میں شرعا نکاح ہو گیا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعا یہ نکاح درست نہیں ہوا، اس لیے کہ نکاح کے انعقاد کے لیے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے، جبکہ فون پر نکاح کی صورت میں مجلس ایک نہیں ہوتی۔ البتہ اس کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ جس مقام پر لڑکی موجود ہو، اس مقام کے کسی آدمی کو لڑکا اپنا وکیل بنا دے، یا لڑکے کے مقام کے کسی آدمی کو لڑکی اپنا وکیل بنا دے اور وہ وکیل دو گواہوں کی موجودگی میں اس طرح ایجاب و قبول کر لے کہ میں اپنے مؤکل ( لڑکے )، یا مؤکلہ ( لڑکی ) کی طرف سے وکیل بن کر اتنے مہر میں اس کا نکاح اس لڑکے یا لڑکی سے کرتا ہوں اور مقابل ( لڑکا یا لڑکی ) قبول کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔

لمافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح،……فأما إذا كان أحدهما غائبا؛ لم ينعقد
وفی الشامیة: ( 4/490، دار المعرفة )
“(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد
وفی تقریرات الرافعی مع رد المحتار: ( 4/490، دار المعرفة )
“المتبادر من اشتراط اتحاد المجلس أن المراد بہ مجلس المتعاقدین، لا مجلس الایجاب و القبول.”
و فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
“یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ.”
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/60، الطارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/527، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/4075، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440، 2019/4/4
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :100

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔