سوال

ایک دن میری ظہرکی پہلی چارسنتیں رہ گئیں،فرضوں کے بعدمیں نے پہلے چارسنت پڑھ لیں اورپھردو۔بعدمیں مجھے اس کا خیال آیاکہ پہلے تودوسنتیں پڑھنی تھیں اب چارسنتوں کودوبارہ پڑھناضروری ہے یانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اصل طریقہ تویہی ہے کہ ایسی صورت میں فرضوں کے بعدپہلے دورکعت پڑھیں اورپھرچاررکعت،لیکن اگرکبھی اس کے خلاف ہوجائے توپھردوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /112 ،رشیدیة )
واماالاربع قبل الظھراذافاتتہ وحدھابان شرع فی صلاۃ الامام ولم یشتغل بالاربع فعامتھم علی انہ یقضیھابعدالفراغ من الظھرمادام الوقت باقیاوھوالصحیح ھکذافی المحیط،وفی الحقائق یقدم الرکعتین عندھماوقال محمدرحمہ اللہ یقدم الاربع وعلیہ الفتوی کذافی السراج الوھاج
وفی الشامیة: (2 /621 ،دارالمعرفة )
ان خاف فوت رکعۃ یترکھاویقتدی (ثم یاتی بھا)علی انھاسنۃ(فی وقتہ)ای:الظھر(قبل شفعہ)عندمحمد،وبہ یفتی، اقول:وعلیہ المتون،لکن رجح فی الفتح تقدیم الرکعتین
وکذافی التاتارخانیة: (2 /302 ،فاروقیة ) وکذافی الجوھرة النیرة: (1 /188 ،قدیمی )
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /235 ،داراحیاء ) وکذافی اعلاءالسنن: (7 / 137 ،ادارة القرآن )
وکذافی تحفة الاحوذی: (2 /512 ،قدیمی ) وکذافی غنیة المتملی: (399 ،رشیدیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /301 ،رشیدیة )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:179

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔