سوال

ایک شخص بیمارہے۔لیٹ کرنمازپڑھ سکتاہے۔لیکن اس کےبدن اور کپڑوں پرپیشاب لگاہوا ہے۔اگربدن اورکپڑےدھودئیےجائیں توبیماری کےبڑھ جانےکاسخت اندیشہ ہےکیایہ شخص تیمم کرکے نماز پڑھ سکتاہے؟جبکہ بدن اورکپڑےپیشاب سےناپاک ہے۔

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسئولہ میں اگرمریض کےکپڑےبدلناممکن ہوتوکپڑےتبدیل کرکےورنہ تیمم کرکےاسی حالت میں انہی کپڑوں کےساتھ نمازپڑھ لے۔

لمافی خلاصةالفتاوی:(1/197،رشیدیة)
مریض مجروح تحتہ ثیاب نجسۃان کان بحال لایبسط تحتہ شیئ الاتنجس من ساعتہ لہ ان یصلی علی حالہ وکذالولم یتنجس الثانی الاانہ یزدادمرضہ لہ ان یصلی فیہ
وفی الھندیة:(1/137،رشیدیة)
مریض تحتہ ثیاب نجسۃان کان بحال لایبسط شیئ الاویتنجس من ساعتہ یصلی علی حالہ وکذااذالم یتنجس الثانی لکن یلحقہ زیادۃمشقۃ بالتحول
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/173،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/71،رشیدیة)
وکذافی ردالمحتار:(1/307،سعید)
وکذافی فتح القدیر:(2/8،رشیدیة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(186)
وکذافی البحرالرائق:(1/202،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17-08-1443/2022-03-21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:55

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔