سوال

ایک شخص فوت ہوااس کےورثہ نےجنازہ پراعلان کیا،اگرکسی کااس میت کےساتھ لین دین ہے تووہ ہم سے رابطہ کرےبعدمیں ایک شخص آیااوراس نےدعوی کیاکہ متوفی نے میرادس سال پہلےکاقرض دیناہےکہ اس نےمجھ سےدرخت خریدے تھےمتوفی کے حصےداروں سے پتاکیااور ساتھ کام کرنے والوں سے بھی پتا کیاتوانہوں نےانکار کردیاکہ ہمیں نہیں پتااوراس مدعی کےبارے میں یہ بھی مشہورہےکہ یہ فراڈیا ہے۔اب ورثاء کیاکریں جس سےمیت کوکوئی پکڑنہ ہو۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مدعی اگرثبوتوں یادوگواہوں کےذریعےاپنادعوی ثابت کردےتواس کےدعوےکااعتبارکیاجائےگا، ورنہ میت کے ورثہ قسم کھائیں گے۔

لما فی السنن الکبری:(10/427،دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس رضی اللہ عنھماأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:البینۃعلی المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وفی الشامیہ: (10 /529 ،رشیدیہ)
قولہ:(ویقدم دین الصحۃ)ھوماکان ثابتاًبالبینۃمطلقاًأوبالاقرارفی حال الصحۃ
وکذافی المعتصرالضروری:(736،البشری)
وکذا فی البنایہ: (8/401 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (9 /366 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(5/336،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(3/210،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط:(17/28،بیروت)
وکذا فی تبین الحقائق:(4/290،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/12/2022/20/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:125

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔