الجواب حامداً ومصلیاً
اسکی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہو گی،کیونکہ ایلاء کیلئے قسم یاکوئی ایسا لفظ جو قسم کے معنی میں ہو کہنا ضروری ہےاور صورت مسئولہ میں عبارت کے اندر الفاظ قسم موجود نہیں۔
لما فی التاتارخانیہ: ( 5/ 185، فاروقیہ)
وفی الینابیع:وینعقدالایلاءبکل لفظ ینعقد بہ الیمین کقولہ:واللہ،و:باللہ، و:تاللہ۔۔۔ (188) قال القدوری:ولایکون الایلاء الا بالحلف علی الجماع بالفرج خاصۃ
وفی الھندیہ: ( 1/ 477 ، رشیدیہ)
وفی الینابیع وینعقدالایلاء بکل لفظ تنعقد بہ الیمین کقولہ واللہ وباللہ وتاللہ وجلال اللہ وکبریاءاللہ وسائر الالفاظ التی تنعقد بھا الیمین ولا تنعقد بکل لفظ لا تنعقد بھا الیمین
وکذافی مجمع الانھر: ( 2/ 96 ، المنار)
وکذافی المبسوط: ( 7/ 19،دارالمعرفہ ) )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 3/ 363،حقانیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 5/ 65،رشیدیہ )
وکذافی الھندیہ: ( 2/ 477،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:( 2/218،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع: ( 3/ 270،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ: ( 5/ 268،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق: ( 2/ 426،قدیمی کتب خانہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/1444/9/11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:62