سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ازدواجی حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے تین بار طلاق،طلاق،طلاق دے کر اپنے اوپر حرام کر دیا ہے،اب طلاق دینے کے بعدطلاق دہندہ کا دعوی ہے کہ یہ میں نے بیوی کو ڈرانے دھمکانے کے لیےکیا ہے،لہذا مذکورہ صورت حال کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

صریح الفاظ سے دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اگرچہ ڈرانے دھمکانے کے لیے ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے وہ اس کے لیے حلال ہو سکتی ہے۔

لما فی القرآن المجید:(سورہ بقرہ:229،230)
الطلاق مرتان فامساک بمعروف أو تسریح باحسان….. .فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما أن یتراجعا
وفی الصحیح للبخاری:(2/791،قدیمی)
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
وکذافی السنن لابی داؤد:(1/316،رحمانیہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة
وکذا فی الھندیہ:(1/473،رشیدیہ)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
وکذا فی البحر:(4/94،رشیدیہ)
وکذا فی عمدة القاری:(20/233،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/8/1442/2021/04/13
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 77

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔