الجواب باسم ملھم الصواب
“میں تینوں طلاق دے دتی اے” ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، اور “میں تینوں نہیں رکھنا، نہیں رکھنا، نہیں رکھنا” ہماری ناقص رائے کے مطابق سابقہ طلاق کی تاکید اور پختگی کے لئے ہے۔ اس لئے اس سے پچھلی طلاق بائنہ ہوجائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں ایک طلاقِ بائنہ ہوئی ہے۔
عدت گزرنے پر نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔
لما فی المختصر للقدوری: (173، ط: مکتبہ الخلیل)
وإذا وصف الطلاق بضرب من الزيادة والشدة كان بائنا مثل أن يقول: أنت طالق بائن أو طالق أشد الطلاق أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان والبدعة وكالجبل وملأ البيت
و فی التنویر: (4/485-487، ط: رشیدیہ)
و یقع بأنت طالق بائن أو البتۃ …أو افحش الطلاق أو طلاق الشیطان أو البدعۃ أو أشر الطلاق او کالجبل او کألف او ملأ البیت أو تطلیقۃ شدیدۃ أو طویلۃ أو عریضۃ أو أسوأہ أو أشدہ أو أخبثہ …أو أکبرہ أو أعرضہ أو أطولہ أو أغلظہ أو أعظمہ واحدۃ بائنۃ …ان لم ینو ثلاثا
و کذا فی تقریرات الرافعی علی ھامش الشامیہ (4/509، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الشامیہ (4/447، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (3/174، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (3/176، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الھدایہ (2/349، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی (4/411، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی فتح القدیر (4/46، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر مع الدر (4/528، ط: رشیدیہ)
و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/07/1442/ 2021/03/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:39