سوال

ایک شخص نے اپنے والدین سے جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے کہا “جاتجھے طلاق ہو”پھر کچھ وقفے کے بعد کہا “طلاق طلاق”شوہر کا کہنا ہے یہ الفاظ محض غصے کی بڑبڑاہٹ تھےاور یہ تینوں الفاظ بلا ارادہ میری زبان پرجاری ہو گے،ورنہ طلاق دینے کا کوئی ارادہ تصور بھی نہ تھااس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

غصہ کی عمومی حالت میں دی گئ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔سوال میں جو کیفیت بیان کی گئ ہے وہ اتنی شدید نہیں ہے کہ ہوش وحواس برقرار نہ رہے ہوں،لہذا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔

لما فی الھندیہ:(1/353،رشیدیہ)
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة
وطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع
وفی الاشباہ والنظائر:(/57،قدیمی)
ولو کرر لفظ الطلاق فان قصد الاستئناف وقع الکل او التاکید فواحدہ دیانۃ والکل قضاء
وکذافی الشامیة:(4/439،رشیدیہ)
وکذا فی فتح الباری:(9/487،قدیمی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/229،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/442،رشیدیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(10/174،قدیمی)
وکذا فی الشامیة:(4/444،445،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی التتارخانیہ:(4/392،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6883،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:92

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔