سوال

ایک شخص نے ایک عورت سےدوسری شادی کی ،اب وہ اپنے بیٹے کا نکاح اس عورت کی بہن سے کرنا چاہتاہے،جو رشتہ میں اس کی سوتیلی خالہ لگتی ہے۔ کیاشریعت کی روشنی میں یہ نکاح کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سوتیلی خالہ محرمات میں سے نہیں ہے،لہذا اس سے نکاح کرنا درست ہے۔

لما فی الشامیہ:(4/112،بیروت)
قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب
وفی الفقه الإسلامي وأدلته:( 9/ 6627،رشیدیہ)
والمحرم بهذه الآية هو زوجة الأب فقط، أما بنتها أو أمها فلا تحرم على الابن، فيجوز أن يتزوج الرجل امرأة، ويتزوج ابنه بنتها أو أمها
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(36/212،216 ،علوم اسلامیہ)
وکذافی الجوھرة النیرہ:(2/110، قدیمی)
وکذافی تفسیر المظھری:(2/51،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/80،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/7،امیر حمزہ کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:152

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔