الجواب حامداً ومصلیاً
اس مسئلے میں اختلاف ہے ایک قول یہ کہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ دی جائے،دوسرا قول یہ کہ سابقہ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کی جائے،دوسرا قول زیادہ صحیح اور مستحقین کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس قول کے اعتبار سے لوگ زیادہ سے زیادہ زکوٰۃ ادا کریں گے جبکہ پہلا قول مستحقین کے لیے اس طرح نقصان دہ ہے کہ ہر آئے دن سونے کی قیمت بڑھ رہی ہے اس اعتبار سے لوگ زکوٰۃ ادا کرنا چھوڑ دیں گے۔
لما فی الھندیة: (1 /180 ،رشیدیة )
اذاکان لہ مائتا قفیز حنطۃ للتجارۃ تساوی مائتی درھم فتم الحول ثم زاد السعراو انتقص فان ادی من عینھا ادی خمسۃ اقفزۃ وان ادی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب لان الواجب احدھما ولھذا یجبرالمصدق علی قبولہ وعندھما یو م الاداء وکذاکل مکیل او موزون اومعدود وان کانت الزیادۃ فی الذات بان ذھبت رطوبتہ تعتبرالقیمۃ یوم الوجوب اجماعا لان المستفاد بعد الحول لایضم وان کان النقصان ذاتا بان ابتلیت یعتبر یوم الاداء عندھم
وفی بدائع الصنائع: (2/111 ، رشیدیة)
وعند ابی یوسف ومحمد:ان ادی من عینھا یؤدی خمسۃ اقفزۃ فی الزیادۃ والنقصان جمیعا کما قال ابو حنیفۃ ،وان ادی من القیمۃ یؤدی فی النقصان درھمین ونصفا وفی الزیا دۃ عشرۃ درھم،لان الواجب الاصلی عندھما ھو ربع عشرالعین وانما لہ ولایۃ النقل الی القیمۃ یوم الاداءفیعتبر قیمتھا یوم الاداء،والصحیح ان ھذا مذھب جمیع اصحابنا لا ن المذھب عندھم انہ اذاھلک النصاب بعدالحول تسقط الزکاۃ سواء کان من السوائم اومن اموال التجارۃ
وکذافی التاتارخانیة: (3 /170 ،فاروقیة ) وکذا فی الشامیة: (3 /250 ،رشیدیة )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:100