سوال

ایک شخص نے غصہ میں اپنی بیوی کو ایک سے زائد بار ماں کہا اور اب وہ اکھٹے رہ رہے ہیں،مہربانی فرما کر شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس لفظ سے نکاح پر تو کوئی اثرنہیں پڑا البتہ ایسے الفاظ کہنا نہایت ناپسندیدہ اور بری بات ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/507،رشیدیہ)
قال لها: أنت مثل أمي ولم يقل: علي ولم ينو شيئا لا يلزمه في قولهم كذا في فتاوى قاضي خان. . . . . لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7136،رشیدیہ)
ویکرہ ان یدعو الزوج زوجتہ بذی رحم مثل یا اخت ا و یا ام ونحوھا
وکذافی التاتارخانیہ:(5/170،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(4/165، رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(3/379،حقانیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/470،سعید)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/223،الطارق)
وکذافی النھر الفائق:(2/453،قدیمی)
وکذافی ابی داؤد:(1/319،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(5/189،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 126

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔