سوال

ایک شخص نے نماز میں غلطی سے”وجوہ یومئذ علیھا غبرۃ “ کی جگہ ”وجوہ یومئذ ترھقھا قترۃ“ پڑھ دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز ہوگئی۔

لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(2/1038،رشیدیہ)
و لا تفسد لو زاد کلمۃ أو نقص کلمۃ او نقص حرفا أو قدمہ أو بدلہ بآخر…. إلّا اذا تغیر المعنی
وفی التاتارخانیة:(2/100،فاروقیة)
أما اذا لم یقف و وصل الآیۃ بالآیۃ ان کان لا یتغیر بہ المعنی نحو أن یقرأ ”وجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ترھقھا قترۃ“ ثم قرأ بدون الوقف ”اولئک ھم الکافرون حقا…. فلا تفسد صلاتہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/256،الطارق)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/80،رشیدیة)
وکذافی الدر المختار:(2/476،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/71،بیروت)
وکذافی الفتاوی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/153،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:158

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔