سوال

ایک شخص نے وکیل سے کہا تم میری بیوی کو طلاق دے دو ،لیکن وکیل نے طلاق نہیں دی تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

طلاق دینے میں اصل تو یہ ہے کہ شوہر خود دے،البتہ اگر وہ طلاق دینے کے لیے کسی کو اپنا نائب (وکیل) بنا دےتو محض وکیل بنانے سے طلاق واقع نہ ہو گی،جب تک کہ وکیل طلاق نہ دے،لہذا صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

لما فی الدر المختار:(4/540،رشیدیہ)
باب تفويض الطلاق لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه. وأنواعه ثلاثة: تفويض، وتوكيل، ورسالة
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/299،بشری)
لا یصح الطلاق الا من زوج او من وکیلہ، والوکیل من وکلہ الزوج بطلاق زوجتہ فان طلق الوکیل یقع طلاقہ علی زوجۃ الموکل
وکذا فی الخانیہ:(3/52،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(5/36،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(8/322،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(3/611،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(2/126،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(7/256،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(8/17،19،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/6/1442/2021/1/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 183

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔