سوال

ایک شخص وتر کی نماز میں قعدہ اولیٰ کے وقت بیٹھنا بھول گیا اور دعائے قنوت پڑھنا بھی بھول گیا،آخر میں سجدہ سہو کر کے پھر تشہد پڑھی پھر دوبارہ سجدہ سہو کیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

نماز تو ہو گی،البتہ ایک نماز میں متعدد بارسہو ہو جائے تو سجدہ سہو ایک مرتبہ ہی کافی ہو تا ہے،تکرار درست نہیں۔

لما فی المبسوط:(1/224،دارالمعرفہ)
لما بينا أن تكرار سجود السهو في صلاة واحدة غير مشروع، ولأنه لو سجد بهذا السهو ربما يسهو فيه ثانيا وثالثا فيؤدي إلى ما لا نهاية له
وفی التجنیس والمزید:(2/155،ادارةالقرآن)
سجدہ السہو اذا وقعت فی وسط الصلوۃ لا یعیدھا،ویسجد ثانیا؛لانھا وقعت فی غیر محلھا؛لان محلھا آخر الصلوۃ
وکذافی البدائع:(1/417،رشیدیہ)
وتكرار سجود السهو في صلاة واحدة غير مشروع، فأخر إلى وقت السلام احترازا عن التكرار، فينبغي أن يؤخر أيضا عن السلام حتى أنه لو سها عن السهو لا يلزمه أخرى فيؤدي إلى التكرار
وکذا فی الشامیة:(2/655،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/174،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة۰ الفقھیة:(24/240،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(1/100،حرمین)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/178،بشری)
وکذا فی التتارخانیہ:(2/423،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/130،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:42

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔