الجواب حامداً ومصلیاً
اگر اس شخص کواتنے وقفے سے قطرے آتے ہیں کہ وہ جلدی جلدی مختصر وضوکرکے جلدی جلدی مختصر نماز(فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ)اداکرسکتا ہے یعنی تقریبا 5 منٹ کا وقفہ ہوتا ہو تواسے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا ہوگا اور اگر مسلسل قطرے آتے ہیں،وقفہ نہیں ہوتا تو یہ شخص”معذور“شمار ہوگا ایسا شخص ہرنماز کے وقت کے لئے وضوکرے اور اس وقت میں فرض یا نفل وغیرہ سب اداکرسکتا ہے۔ کسی اور عذر کے پیش آنے سے وضو ٹوٹ جائے گا قطروں سے نہیں ٹوٹے گا،البتہ نماز کا وقت گذرنے پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گااور یہ اس وقت تک معذور شمار ہوگاجب تک اسے ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر پیش آتا رہے۔
لما فی کتاب الفقہ: (1 /92 ،حقانیة )
واما حکمہ،فھو ان یتوضألوقت صلاۃ،ویصلی بذلک الوضوءماشاءمن الفرائض والنوال،فلایجب علیہ الوضوءلکل فرض ،ومتی خرج وقت المفروضۃ انتقض وضوءہ بالحدث السا بق علی العذر عند خروج ذلک الوقت
وفی تنویرالابصار مع الردالمختار: (1 /554 ،رشیدیة )
) ان استوعب عذرۃ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لایجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضأویصلی فیہ خالیا عن الحدث(ولوحکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذاشرط)العذر(فی حق الابتداء وفی)حق(البقاءکفی وجودہ فی جزءمن الوقت)ولومرۃ(وفی)حق الزوال یشترط(استیعاب الانقطاع)تمام الوقت(حقیقۃ)لانہ الانقطاع الکامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(فاذاخرج الوقت بطل)ای ظھر حدثہ السابق،حتی لوتوضأعلی الانقطاع ودا، الی خروجہ لم یبطل بالخروج مالم یطرأحدث آخر
وکذافی الھندیة: (1 /41 ،رشیدیة ) وکذافی الھدایة: (1 /119 ،بشریٰ )
وکذافی فتح القدیر: (1 / 181 ،رشیدیة ) وکذافی البحرالرائق: (1 /373 ،رشیدیة )
وکذافی البنایة: (1 /672 ،رشیدیة ) وکذافی بدائع الصنائع: (1 /163 ،رشیدیة )
وکذافی النھرالفائق: ( 1/ 139 ،قدیمی ) وکذا فی التجرید: (1 /368 ،محمودیة )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:72