سوال

ایک شخص کی فجر کی جماعت رہ گئی جبکہ نماز کا وقت ابھی باقی ہے، کیا وہ اپنی بیوی کو جماعت کروا سکتا ہےیا اکیلے پڑھے؟ نیز اگر کروا سکتا ہے تو بیوی کو کہاں کھڑا کرے گا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اس شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ جماعت کروانا اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے، اور بیوی کو بالکل اپنے پیچھے کھڑا کرے گا۔

لمافی الھندیة:(1/82،رشیدیہ)
اذا فاتتہ الجماعۃ لا یجب علیہ الطلب فی مسجد آخر بلاخلاف بین اصحابنا لکن ان اتی مسجدااخر لیصلی بھم مع الجماعۃ فحسن وان صلی فی مسجد حیہ فحسن وذکر القدوری انہ یجمع فی اھلہ و یصلی بھم ۔
وفی المحیط البرھانی:(2/202،ادارة القران)
” وان کان معہ رجل وامرأۃ ،أقام الرجل عن یمینہ والمرأۃ خلفہ۔ “
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/280،فاروقیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/274،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی سنن ابی داود:(1/99،رحمانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/606،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/616،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1264،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،8،1443/2022،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:61

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔