الجواب باسم ملھم الصواب
مرحوم کی تمام جائیداد یعنی گھر، ٹریکٹر ،زمین اور نقدی وغیرہ کا آٹھواں حصہ تینوں بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا،باقی سب لڑکے کو ملے گا، ایک بیوی کا دوسروں کا حق دبانا جائز نہیں بلکہ حرام اور سخت گناہ ہے۔
لما فی الصحیح لمسلم:(1/42،رحمانیہ)
عن سعید بن زید بن عمروبن نفیل ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اقتطع شبرا من الارض ظلما طوقہ اللہ ایاہ یوم القیامۃ من سبع ارضین.
وکذا فی القرآن المجید:(النساء،12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(6/450،رشیدیہ)
“واما الثمن ففرض الزوجۃ اوالزوجات اذا کان للمیت ولد او ولدابن.
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(20/242،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(9/374، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(10/544،دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (23/298، احیاء تراث العربی)
وکذا فی کنز الدقائق:(500،الحقانیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/233،امدادیہ)
وکذا فی السراجی:(7، شرکت العلمیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440،2019، 4، 15
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:198