سوال

ایک شخص کے پاس بیل ہے، جس کو جفتی کے لیے اجرت پر دیتا ہے، کیا اس شخص کا اجرت لینا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جفتی کے لیے جانور اجرت پر دینا جائز نہیں، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی کچھ دے دے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لمافی الشامیة:(9/92،دار المعرفہ)
لا تصح الاجارۃ لعسب التیس و ھو نزوہ علی الاناث ولا لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی و لو اخذ بلا شرط یباح۔
وفی الموسو عة الفقہیة:(1/287،علوم اسلامیہ)
وفی اجارۃ الفحل للضراب خلاف فجمھور الفقہاء الحنفیۃ و ظاہر المذھب الشافعیۃ واصل المذھب الحنابلۃ علی منعہ لنہی النبیﷺ فی الحدیث المتفق علیہ من عسب الفحل۔۔۔۔ وقالوا ان أطرق انسان فحلہ بغیر اجارۃ ولا شرط، فاھدیت لہ ھدیۃ، فلا بأس۔
وکذافی مجمع الانھر:(3/532،منار)
وکذافی جامع الترمذی:(1/372،رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(3/427،بشری)
وکذافی المبسوط:(15/83،دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/33،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(399،بشری)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،9،1443/2022،4،23
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:200

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔