الجواب حامداً ومصلیاً
حرام مال پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی ،بلکہ اس تمام مال کوبغیرثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہے،البتہ حلال مال پر زکوۃ واجب ہو گئی ہے،چنانچہ جب اس کے پاس ڈھائی تولہ سونے کے علاوہ حلال مال بالکل نہ تھا تو نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ لازم نہیں تھی،البتہ جب 30 ہزارحلال نقدی آ گئی تواب سونے اورنقدی دونوں کی قیمت اگر نصاب کو پہنچتی ہے تو ان دو سالوں کی زکوۃ لازم ہو گی۔
لما فی الموسوعة الفقیہ:(23/248،249،علوم اسلامیہ)
المال الحرم کالماخوذ غصباً او سرقۃ او رشوۃ او رباً او نحو ذلک لیس مملوکا لمن ھو بیدہ فلا تجب علیہ زکاتہ
وفیہ ایضا
قال الحنفیۃ لو کان المال الخبیث نصاباً لا یلزم من ھو بیدہ الزکاۃ لانہ یجب اخراجہ کلہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ
وفی الشامیة:(3/259،رشیدیہ)
من ملک اموالا غیر طیبۃ او غصب اموالا وخلطھا ملکھابالخلط ویصیر ضامناً وان لم یکن لہ سواھا نصاب فلا زکوۃ علیہ فیھا وان بلغت نصاباً
وفیہ ایضا
ولو کان الخبیث نصاباً لا یلزمہ الزکوۃلان الکل واجب التصدق فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1994،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/233،159،184،فاروقیہ)
وکذافی منحة الخالق علی البحرالرائق :(2/359،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/357،365،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/297،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 126