سوال

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ امام مہدی کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ مہربانی فرما کر صحیح احادیث بتلا دیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اخیر زمانہ میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظہور یقیناً ہوگا۔آپ کا نام محمد اور والد کا نام عبد اللہ ہوگااور آپ کا لقب مہدی ہوگا۔آپ اہلبیت میں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد میں سے ہونگے۔آخر زمانہ میں جب اہل مدینہ کا حکومت پر اختلاف ہوگا تو آپ مدینہ منورہ سے نکل کر مکہ مکرمہ چلے جائیں گے۔اہل مکہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے۔ انکے مقابلے کےلیے شام سے ایک لشکر آئے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ملک شام اور عراق کے ابدال اور صلحاء حضرت مہدی کے ہاتھ پربیعت کرلیں گے۔ پھر ایک قریشی شخص ان کے خلاف لشکرکشی کرے گاجسے شکست ہوگی۔ پھر حضرت مہدی اسلامی حکومت قائم فرمائیں گے،کثرت سے فتوحات ہونگی،عدل و انصاف کا نظام قائم ہوگا۔ آپ 7 سال حکومت کرنے کے بعد انتقال فرما جائیں گے اور مسلمان آپ کا جنازہ ادا کریں گے۔
حضرت مہدی سے متعلق یہ سب باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ بہت سی کتب احادیث مثلاً سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، المستدرک للحاکم ، مشکوۃ المصابیح، مجمع الزوائد اور مسند ابی یعلی وغیرہ میں اس سے متعلق کثرت سے روایات موجود ہیں ۔یہ سب روایات مختلف صحابہ کرام مثلاً حضرت علی ، ابو سعید، ابو ہریرہ،حذیفہ بن یمان ، ابو امامہ، عبد الرحمان بن عوف ، انس بن مالک، ابن جابر ، ابن عبد اللہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھم وغیرہ سے منقول ہیں۔
لہذا امام مہدی کے خروج کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے اور اسکا انکار ضلالت و گمراہی ہے۔

لما فی جامع الترمذی:(2/494،رحمانیہ)
عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي: وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة وهذا حديث حسن صحيح
وفیہ ایضاً:(2/494،رحمانیہ)
عن أبي سعيد الخدري قال: خشينا أن يكون بعد نبينا حدث فسألنا نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن في أمتي المهدي يخرج يعيش خمسا أو سبعا أو تسعا۔ هذا حديث حسن
وفی سنن ابی داؤد:(2/238،رحمانیہ)
عن علي، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو لم يبق من الدهر إلا يوم، لبعث الله رجلا من أهل بيتي، يملؤها عدلا كما ملئت جورا
وفی سنن ابن ماجہ:(437،رحمانیہ)
عن ثوبان، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “يقتتل عند كنزكم ثلاثة، كلهم ابن خليفة، ثم لا يصير إلى واحد منهم، ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق، فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم ثم ذكر شيئا لا أحفظه، فقال: “فإذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج، فإنه خليفة الله، المهدي
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(5/376،قدیمی)
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: ينزل بأمتي في آخر الزمان بلاء شديد من سلطانهم لم يسمع بلاء أشد منه، حتى تضيق عنهم الأرض الرحبة، وحتى يملأ الأرض جورا وظلما، لا يجد المؤمن ملجأ يلتجئ إليه من الظلم، فيبعث الله عز وجل رجلا من عترتي، فيملأ الأرض قسطا وعدلا، كما ملئت ظلما وجورا، يرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض، لا تدخر الأرض من بذرها شيئا إلا أخرجته، ولا السماء من قطرها شيئا إلا صبه الله عليهم مدرارا، يعيش فيها سبع سنين أو ثمان أو تسع، تتمنى الأحياء الأموات مما صنع الله عز وجل بأهل الأرض من خيره۔ هذا حديث صحيح الإسناد
وکذافی جامع الترمذی:(2/494،رحمانیة)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/239،رحمانیة)
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(5/407،423،قدیمی)
وکذافی مجمع الزوائد:(7/431،433،435،بیروت)
وکذافی تحفة الاحوذی:(6/484،قدیمی)
وکذافی التعلیق الصبیح:(6/183،184،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 60

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔