سوال

ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو آگ میں ڈالا گیا تھا تو آگ نے ان کو نہیں جلایا تھا،یہ واقعہ کیا ہے؟ ان صحابی رضی اللہ عنہ کا نام کیا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

وہ عظیم صحابی رضی اللہ عنہ جنہیں آگ میں ڈالا گیا تھا ،مگر وہ آگ کے اثر سے بحکم الٰہی محفوظ رہے وہ حضرت ذؤیب بن کلیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان سے متعلق کتب میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت أسود عنسی نے آپ رضی اللہ عنہ کو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان لانے کی وجہ سے بطور سزا آگ میں ڈال دیا تھا ، مگر آپ رضی اللہ عنہ بحکم الٰہی آگ کی تپش سے محفوظ رہے۔ اس واقعہ کا ذکر جناب نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:تمام تعریفیں اس اللہ کےلیے جس نے اس امت میں ابراہیم علیہ السلام جیسے لوگ پیدا فرمادیے۔
یہ واقعہ سندی اعتبار سے قدرے ضعیف ہے ،کیونکہ اس کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس پر اکثر محدثین نے جرح فرمائی ہے۔
البتہ ایک تابعی حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق بھی اس طرح کا واقعہ بہت سی کتب میں منقول ہے اور سندی حیثیت سے بھی قابل اعتبار ہے۔

لما فی الاصابة فی تمییز الصحابة:(1/561،وحیدیہ)
روى ابن وهب عن ابن لهيعة أن الأسود العنسيّ لما ادّعى النبوّة وغلب على صنعاء أخذ ذؤيب بن كليب فألقاه في النار لتصديقه النبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم فلم تضرّه النار، فذكر ذلك النبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم لأصحابه، فقال عمر: الحمد للَّه الّذي جعل في أمتنا مثل إبراهيم الخليل
وفی الخصائص الکبری:(2/137،التوفیقیہ)
أخرج ابْن وهب عَن ابْن لَهِيعَة أَن الْأسود الْعَنسِي لما ادّعى النُّبُوَّة وَغلب على صنعاء أَخذ ذُؤَيْب بن كُلَيْب فَأَلْقَاهُ فِي النَّار لتصديقه بِالنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَلم تضره النَّار فَذكر ذَلِك النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لأَصْحَابه فَقَالَ عمر الْحَمد لله الَّذِي جعل فِي أمتنَا مثل إِبْرَاهِيم الْخَلِيل
وفی حلیة الأولیاء:(2/128،بیروت)
عن شرحبيل الخولاني قال: بينا الأسود بن قيس بن ذي الحمار العنسي باليمن فأرسل إلى أبي مسلم فقال له: أتشهد أن محمدا صلى الله عليه وسلم رسول الله؟ قال: نعم قال: فتشهد أني رسول الله؟ قال:ما أسمع قال: فأمر بنار عظيمة فأججت وطرح فيها أبو مسلم فلم تضره
وفی سبل الھدی والرشاد:(10/266،نعمانیہ)
وروى ابن عساكر من طريق إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم الخولاني أن الأسود تنبأ فبعث إلى أبي مسلم الخولاني، فأتاه فقال: أتشهد أني رسول الله؟ قال: ما أسمع، قال: تشهد محمدا رسول الله؟ قال: نعم، فأتى بنار عظيمة، ثم ألقى أبا مسلم فيها فلم تضره، فقيل للأسود: إن لم تنف هذا عنك فسد عليك من اتبعك، فأمره بالرحيل، فقدم المدينة وقد قبض النبي صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر فقال أبو بكر: الحمد لله الذي ألبثني حتى أراني في أمة محمد صلى الله عليه وسلم من صنع به كما صنع بإبراهيم خليل الرحمن
وکذافی الاستیعاب للقرطبی:(2/47،بیروت)
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(10/266،نعمانیہ)
وکذافی اسد الغابة فی معرفة الصحابة:(1/371،الوحیدیہ)
وکذافی تھذیب التھذیب:(3/622،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:3

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔