سوال

ایک عورت جس کا نام شمائلہ ہے فوت ہوئی۔ اس کے ورثہ میں اس کا خاوند (زید) اور بیٹی (فاطمہ) اور ماں (عائشہ) موجود ہیں۔ اس نے ترکہ میں ”22“ مرلہ کی 5 دکانیں اور 10 ایکڑ زمین چھوڑی ، ابھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کا خاوند (زید ) انتقال کر گیا اور ورثہ میں اس کی ایک دوسری زوجہ (سعدیہ) ، باپ (عبد الرحیم) اور ماں (پروین ) ہیں۔ ابھی شمائلہ کی وراثت تقسیم نہ کی گئی تھی کہ اس کی بیٹی (فاطمہ) کا بھی انتقال ہوگیا، ورثہ میں بیٹی (رقیہ) اور دو بیٹے (علی، عثمان ) اور نانی (عائشہ) چھوڑیں۔ پھر شمائلہ کی ماں (عائشہ) کا بھی انتقال ہوگیا اور ورثہ میں خاوند (عبد الرحمٰن) اور دو بھائی( عبد الکریم ، عبدالقیوم) چھوڑے۔ مہربانی فرما کر شمائلہ کی وراثت کی شرعی تقسیم بتلادیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحومہ کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:
1)

سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
2)

اس کے بعد مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔
3)

اس کے بعد مرحومہ نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔
4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا

مرحومہ شمائلہ کےترکہ کے128برابر حصے کیے جائیں ،جن میں سے 8 حصے (%6.25) سعدیہ کو، 16 حصے(%12.5) عبد الرحیم کو، 8 حصے(%6.25) پروین کو ، 12 حصے(%9.37) رقیہ کو ، 24 حصے (%18.75) عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو ، 18 حصے(%14.06)عبدالرحمٰن کواور 9 حصے(%7.03 ) عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔
سوال میں مذکور 10ایکڑ(80 کنال) زمین میں سے 5 کنال سعدیہ کو ، 10 کنال عبد الرحیم کو ، 5 کنال پروین کو ، 7.5 کنال رقیہ کو ، 15 کنال عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو ، 11.25 کنال عبد الرحمٰن کواور 5.625 کنال عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔
سوال میں مذکور 22 مرلے کی 5 دکانوں میں سے 1.375 مرلہ سعدیہ کو، 2.75 مرلہ عبد الرحیم کو، 1.375 مرلہ پروین کو، 2.062 مرلہ رقیہ کو، 4.125 مرلہ عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو، 3.093 مرلہ عبد الرحمٰن کو اور 1.546 مرلے عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن الکریم:(النساء:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ….وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفیہ ایضاً:( النساء: 12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10 /7907،رشیدیہ)
المناسخة مفاعلة من النسخ بمعنى النقل والتحويل. والمراد بها هنا: انتقال نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه فهي أن يموت من ورثة الميت الأول واحد أو أكثر قبل قسمة التركة
وفی التنویر مع شرحہ:(10 /547،رشیدیہ)
و للام ثلاثة احوال ، السدس مع احدھما او مع اثنین من الاخوة او من اخوات فصاعدا
وفی کنز الدقائق:(497،حقانیہ)
وللزوجة الربع و مع الولد و ولد الابن و ان سفل الثمن و للبنت النصف و للاکثر الثلثان و عصبھما الابن و لہ مثل حظھما
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/53،رحمانیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/42،43،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7773،7775،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر صدیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/2021/4/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 123

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔