سوال

ایک عورت سورہی تھی اس کا بچہ اس کے نیچے آکرمرگیااوراس عورت پرساٹھ (60)روزےتھے اور وہ عورت فوت ہوگئی تو اب اس کاکیا حکم ہے کہ روزوں کافدیہ دیاجائے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرمرحومہ نے وصیت کی تھی توورثاء پرلازم ہے کہ اس کے تہائی مال سے اس کے روزوں کافدیہ اداکریں اوراگروصیت نہیں کی توپھراگرخوش دلی سے ورثاء فدیہ اداکردیں توصحیح ورنہ ورثاء پرفدیہ دیناضروری نہیں۔

لما فی الھندیہ: (1 /207 ،رشیدیہ )
فان برئ المریض اوقدم المسافروادرک من الوقت بقدرمافاتہ فیلزمہ قضاء جمیع ماادرک فانلم یصم حتی ادرکہ الموت فعلیہ ان یوصی بالفدیۃ ویطعم عنہ ولیہ لکل یوم مسکینا نصف صاع من براوصاعا من تمراوصاعامن شعیر، فان لم یوص وتبرع عنہ الورثۃ جازولایلزمہھم من غیرایصاء
وفی الشامیة: (2 /643 ،رشیدیة )
ثم اعلم انہ اذااصوی بفدیۃ الصوم یحکم بالجوازقطعا،لانہ منصوص علیہ وامااذالم یوص فتطوع بھاالوارث
وکذافی الھندیة: (1 /125 ،رشیدیة ) وکذافی البحرالرائق: (2 /497 ،رشیدیة )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1 / 346 ،قدیمی ) وکذافی التاتارخانیة: (3 /407 ،فاروقیة )
وکذافی الھدایة: (1 /353 ،بشری ) وکذا فی القدوری: ( 53 ،الخلیل )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/28/7/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:110

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔