الجواب حامداً ومصلیاً
عورت نے جب زیورات شوہر کو ہبہ کر دیے اور شوہر نے ان پر قبضہ بھی کر لیا تو شوہر ان کا مالک بن گیا اب عورت شوہر کے مملوکہ زیورات کو اس کی صراحتاً یا دلالۃ اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتی۔
لما فی شرح المجلة:(1/262،رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ . . . . وعدم الجواز شامل لجمیع انواع التصرف من استعمال کرکوب ولبس ووضع جذع
وفی الدر المختار:(9/334،رشیدیہ)
“لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولا ولایتہ.”
وکذافی دررالحکام شرح مجلة الاحکام:(3/201،202،المکتبة العربیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/125،139،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،392،بشری)
وکذافی التاتارخانیہ:(14/413،فاروقیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(3/281،رحمانیہ)
وکذافی شرح المجلة:(1/264،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 154