سوال

ایک عورت نے کسی شخص کو فون پے کہا میں آپ کواپناشوہرمانتی ہوں آگے سے مرد نے کہا میں آپ کو اپنی بیوی مانتا ہوں،جبکہ ناتووہاں کوئی گواہ موجود ہےاور نا ہی مجلس واحد تو کیا شریعت کی رو سے یہ نکاح درست ہے ؟

جواب

 

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح کے صحیح ہونے کےلیےدومرد یاایک مرد اوردو عورتوں کی گواہی اور ایک مجلس میں ایجاب وقبول کا ہونا ضروری ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ گواہ بھی موجود نہیں اور مجلس بھی ایک نہیں لہذا یہ نکاح نہیں ہوا۔

لما فی الھندیة: (1 /269 ،رشیدیہ)
ومنہا)أن یکون الایجاب والقبول فی مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس بان کان حاضرین فاوجب احدھما مقام الآخر عن المجلس قبل القبول او اشتغل بعمل یوجب اختلف المجلس لاینعقد
وفی فتح القدیر: ( 3/ 184 ، رشیدیہ)
قال (ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین۔۔۔۔۔(لانکاح الا بشھود)
وکذا فی تقریرات الرافعی مع ردالمحتار:(4/86،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (4 /86 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/490،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /148 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /126 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/2/2023/6/8/1444
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر:41

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔