الجواب باسم ملھم الصواب
اگر دنیا میں کسی عورت کے یکے بعد دیگرے ایک سے زائد خاوند ہوں تو اکثر روایات کے مطابق جنت میں جانے کے بعد اس عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس خاوند کو چاہے اپنے لیے منتخب کر لے اور عورت ایسے خاوند کو اپنے لیے پسند کرے گی جو دنیا میں اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا رہا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت آخری خاوند کی زوجہ بنے گی مگر یہ روایات نسبتا ضعیف ہیں۔نیز یہ آخری خاوند کی زوجہ بننا بھی عورت کی رضا مندی سے ہوگا کیونکہ وہاں کوئی چیز بھی جبراً اور خلاف طبیعت نہ ملے گی۔
لما فی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیررحمہ اللہ:(4/312،دارالمعرفہ)
عن ام سلمۃرضی اللہ عنہاـ ـ ـ قلت: یارسول اللہ المرأة منا تتزوج زوجین والثلاثۃ والأربعۃ، ثم تموت فتدخل الجنۃ ویدخلون معہا، من یكون زوجہا؟ قال: “یا أم سلمۃ، إنہا تخیر فتختار أحسنہم خلقا، فتقول: یا رب، إن ہذا كان أحسن خلقا معی فزوجنیہ، یا أم سلمۃ ذہب حسن الخلق بخیر الدنیا والآخرة
وفی المعجم الکبیر للطبرانی:(10/25،26،دارالکتب العلمیہ)
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال :قالت ام حبیبۃ رضی اللہ عنھا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،المراۃ منا یکون لھا زوجان ثم تموت فتدخل الجنۃ ھی و زوجہا ،لایھما تکون للاول او للآخر؟ قال :تخیر احسنھما خلقا کان معھا فی الدنیا یکون زوجھا فی الجنۃ یا ام حبیبۃ
وکذافی المعجم الاوسط للطبرانی:(4/111،مکتبة المعارف)
وکذا فی مجمع الزوائد:(10/557،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی تاریخ بغداد للخطیب:(6/170،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی الترغیب و الترھیب:(4/300،رشیدیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی:(10/26،105،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی کنزالعمال:(16/201،202،رحمانیہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر:(3/123،داراحیاء الترث العربی)
واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/12/2020/1442/4/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:37