سوال

ایک عورت کو بچے کی ولادت کے بعد چار،پانچ ماہ لگاتار خون آتا رہتا ہے اس کاکیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر عورت عادت والی ہے تو اتنے دن نفاس،باقی دن بیماری کا خون شمار ہوگا اور اگر عادت والی نہیں تو چالیس دن نفاس،باقی بیماری کا خون ہوگا اور اس دوران نماز،روزہ معاف نہیں ہوگا۔

لما فی التاتارخایة: (1 /538 ،فاروقیة )
واکثرمدۃ النفاس مقدر باربعین یوما عندنا وان زادالدم علی الاربعین فالزیادۃ علی الاربعین استحاضۃ،والاربعون نفاس فی المبتدأۃ،وفی صاحبۃ العادۃ معروفتھا نفاس والزیادۃ علیھا استحاضۃ
وفی تنویرالابصار مع الردالمختار: (1 /545 ،رشیدیة )
والنفاس یخرج عقب ولد لاحد لہ لأقلہ وأکثرہ اربعون یوما وازاید)علی اکثرہ(استحاضۃ)لو مبتدأۃ؛اما المعتاد فترد لعادتھا وکذالحائض
وکذافی الھدایة: (1 /122 ،بشریٰ ) وکذافی المحیط البرھانی: (1 /467 ،دار احیاء )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /157 ،رشیدیة ) وکذافی کتاب الفقہ: (1 / 118 ، حقانیة)
وکذافی فتح القدیر: (1 /189 ،رشیدیة ) وکذافی الھندیة: (1 /37 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (1 / 122 ،بشریٰ ) وکذا فی البنایة: (1 / 697 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/18/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:73

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔