الجواب باسم ملھم الصواب
اگر بیوی اپنی بات پر گواہ پیش کر دے تو اس کی بات معتبر ہو گی ورنہ شوہر سے قسم لی جائے گی اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کی بات معتبر ہو گی اور قسم سے انکار کی صورت میں عورت کی بات معتبر ہو گی اور ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔
لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:2/185(طارق)
“فان اختلفا فی وجود الشرط اصلا او تحققا ای اختلفا فی وجود اصل التعلیق بالشرط او فی تحقق الشرط بعد التعلیق فالقول قولہ مع الیمین لانکارہ الطلاق…… وان ادعی تعلیق الطلاق بالشرط واد عت الارسال فالقول قولہ ولوادعت انہ طلقھا من غیر شرط والزوج یقول طلقتھا بالشرط ولم یو جد فالبینۃ فیہ للمرءۃ
وکذا فی تنقیح الفتاوی:(1/101،قدیمی)
وکذافی الھدایہ:(3/213،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التا تارخانیہ:(13/99،فاروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/299،امدادیہ)
وکذافی البحرالرائق:(7/353،مرشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(8/413 ،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(6/159،دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/161، رحمانیہ)
وکذا فی الشامیہ:(8/354،دار المعرفہ)
واللہ تعا لی اعلم بالصواب
محمداکرام پاکپتنی عفی عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1/4/1440ھ
2018 /12/9
جلد نمبر :17
فتوی نمبر :83