سوال

ایک غریب آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو گیا تو یہ جانور اللہ کے نام پر دوں گا ۔ وہ کام تو ہو گیا لیکن یہ مذکور جانور اس وقت جوان ہے اور خاصا قیمتی ہے ،اس غریب آدمی کو فی الحال پیسوں کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ چاہتا ہے کہ اس جانور کو فروخت کر کے پیسے استعمال کر لےاور ایک دوسرے جانور کو جو کہ ابھی چھوٹا ہےجب وہ بڑا اور تیار ہو جائے تو اسے اللہ کے نام پر دے دے ۔ اس طرح کرنا شرعا درست ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !ایسا کرنا درست ہے ،بشرطیکہ دوسرا جانور قیمت میں پہلے جانور کے برابر یا زائد ہو،کم نہ ہو،لیکن نذر پورا کرنے میں بلا وجہ تاخیر کرنا درست نہیں۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(5/545،رشیدیہ)
ولو قال :للہ علی ان اذبح جزورا و اتصدق بلحمہ فذبح مکانہ سبع شیاہ جاز
وفیہ ایضا:(5/546،رشیدیة)
نذر ان یتصدق بعشرۃ دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان ساوی العشرۃ )کتصدقہ بثمنہ
وفی المحیط البرھانی:(6/357،بیروت)
اذا نذر بھدی شاۃبعینھا فاھدی مثلھا اجزاہ وکذالک اذا نذر بعتق عبد بعینہ فاعتق مثلہ اجزاہ و ھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ـ ـ ـ وفی البقالی عن ابی یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالی انہ یجوز مثلہ او افضل منہ وفیہ ایضا انہ لا یجوز مطلقا
وکذا فی التاتار خانیہ:(6/290،فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/276،مکتبة المنار)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(330،البشری)
وکذا فی فتح القدیر:(5/88،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/129،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(2/340،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(244،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/12/2020/1442/4/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:38

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔