سوال

ایک لڑکی جس کی عمر 29 سال ہے، صوم و صلوۃ کی پابند اور با پردہ ہے، اس نے آج کل کے حالات اور اپنے خاندان میں شادیوں کے بعد کے معاملات دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کرے گی ۔ بقول اس کے اس کی ساری ضروریات بھی پوری ہورہی ہیں(وہ اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہے) اور اپنے اوپر کسی گناہ میں نہ پڑنے کا بھی یقین ہے، جبکہ اس کے والدین اسے مجبور کررہے ہیں کہ تمہارے لیے بغیر شادی کے رہنا جائز ہی نہیں،تمہیں ضرور شادی کرنا پڑے گی تو کیا اس کے والدین کا اسے شادی پر مجبور کرنا جائز ہے؟ کیا وہ بغیر شادی کے بقیہ پوری زندگی گزار سکتی ہےاگرچہ اسے اپنے اوپر اطمینان اور گناہ میں مبتلا نہ ہونے کا یقین ہو؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح ایک عظیم عبادت ہے ۔آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی مبارک سنت ہے،چنانچہ مشکوۃ شریف میں ہے

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاح. (مشکوۃ المصابیح 1/45،رحمانیہ)

ترجمہ:”حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:چار چیزیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں 1ـ حیاء کرنا (ایک روایت کے مطابق ختنہ کرنا) 2ـ عطر لگانا 3ـ مسواک کرنا 4ـ نکاح کرنا“
نکاح صرف حلال طریقہ پر انقضاء شہوت کا ذریعہ ہی نہیں ، بلکہ توالد و تناسل ، نوع انسانی کی بقاء، نسب کی حفاظت، خوشگوار معاشرے کے قیام اور عفت و پاکدامنی کا ذریعہ ہے اور دیگر کثیر شرعی و طبی حکمتوں پر مشتمل اہم عبادت ہے ، چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
”یہ امر مفیدِ صحت، اطمینان بخش، راحت رساں، سرور افزا، کفایت آمیز، ترقیِ زندگی دارین کا سبب ہے۔ اخلاقی، مذہبی نگاہ سے اس امر پر غور کروگے تو اس کو سراسر فائدوں سے معمور پاؤگے۔ تمدن کے لیے اس سے بہتر کوئی صورت نہیں، حب الوطن کی بھی جڑ ہے اور ملک و قوم کے لیے اعلیٰ ترین خدمات میں سے ہے۔ بیماریوں سے بچانے اور صدہا امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک حکمی نسخہ ہے۔“ (احکام اسلام عقل کی نظر میں :135،رحمانیہ)
نکاح کے ساتھ کئی دینی و دنیاوی مصلحتیں وابستہ ہیں اسی لیے قرآن و احادیث میں اہل ایمان کو نکاح کرنے کی صرف ترغیب ہی نہیں بلکہ واضح حکم ارشاد فرمایا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ” ( النساء: 3)

ترجمہ:” عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں“ (آسان ترجمہ قرآن : 184، معارف القرآن)
اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

يا معشر الشباب، عليكم بالباءة، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج.“(جامع الترمذی:1/333،رحمانیہ)

ترجمہ: ”اے جوانوں کے گروہ ! تمہارے لیے نکاح ضروری ہے کیونکہ نکاح کرنا نظر کو بہت جھکاتا ہے اور شرمگاہ کو بہت محفوظ رکھتا ہے۔“
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نکاح کا حکم ارشاد فرمایا وہیں بلاوجہ نکاح ترک کرنے والوں سے اظہار بیزاری بھی فرمایااور اس پر سختی سے نکیر فرمائی، چنانچہ حدیث مبارکہ ہے

واللہ انی لاخشاکم للہ و اتقاکم لہ لکنی أصوم و أفطر و أصلی و ارقد و أتزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی. ( مشکوۃ المصابیح:1/28،رحمانیہ)

ترجمہ:”اللہ کی قسم میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور تم سے زیادہ تقوی اختیار کرتا ہوں مگر اس کے باوجود روزہ بھی رکھتا ہوں ، افطار بھی کرتا ہوں ،نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ۔ جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں

اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

عن سعد بن ابی وقاص قال ردَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل
( مشکوۃ المصابیح: 2/275، رحمانیہ)

ترجمہ:” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو نکاح ترک کرنے سے منع فرما دیا۔

ان نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کرنا شرعا مطلوب ہے اور بلاوجہ ترک نکاح شرعا مذموم ہے، لہذا بلاوجہ ساری زندگی بلانکاح گزارنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
مزید یہ کہ گناہ میں مبتلا نہ ہونے سے متعلق اپنے نفس پر اعتماد کرنا درحقیقت شیطانی دھوکہ ہے۔ انسان کو کبھی بھی اپنے نفس سے مطمئن نہ ہونا چاہیے، بلکہ ہر لمحہ گناہوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنا چاہییں، چنانچہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ فرمان مذکور ہےَ

 

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي  [يوسف: 53]

ترجمہ: ”اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے ، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے ، ہاں میرا رب رحم فرما دے تو بات اور ہے۔“ (آسان ترجمہ قرآن:514،معارف القرآن)
لہذا اپنے نفس پر مطمئن ہونے کی بجائے نکاح جیسے محفوظ حصار میں آجانا ہی عقلمندی ہے۔
باقی یہ عذر پیش کرنا کہ موجودہ دور کی شادی بیاہ تقریبات کے حالات درست نہیں، منکرات و خرافات کی بھرمار ہے، شادی کے بعد زوجین کے درمیان ناخوشگواریوں کے واقعات بکثرت پیش آرہے ہیں تو یہ چیز عذر نہیں بن سکتی۔ دین دار متبع سنت لوگوں کی اگرچہ قلت ہے ،مگر ایسے لوگ بالکل معدوم تو نہیں۔ رجوع الی اللہ اور مستقل تلاش و جستجو سے ایسا رشتہ یقینا میسر آسکتا ہے جس کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم کرنے میں کسی قسم کے منکرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایسی بےشمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کہ متبع سنت خاندانوں نےشریعت کی حدود و قیود کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے نکاح کی تقریبات کا انعقاد کیا ، کسی قسم کی خرافات وبےپردگی کا وقوع نہ ہوا اور شادی کے بعد زوجین خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، لہذا محض اس چیز کو عذر بنا کر دور فتن میں نکاح جیسی پرحکمت عبادت سے پہلوتہی کرنا اور اس حفاظتی حصار سے محروم رہنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رشتہ دیکھتے وقت لڑکے کی دین داری کو مدنظررکھا جائے اور نکاح کی تقریب کو ہر طرح کے منکرات و فواحش سے محفوظ رکھا جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/32،الطارق)
و حضَّ صلی اللہ علیہ وسلم و حثَّ علی الزواج فقال یخاطب الشباب الذین بلغوا سن الزواج: یا معشر الشباب! من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج…. و ردَّ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصحابۃ الذین أرادوا التبتل و ترک الزواج لیتفرغوا للعبادۃ فقد روی عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ انہ قال: ردَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل ….التبتل ھو الانقطاع عن النساء و ترک النکاح
وفیہ ایضاً:(2/36،الطارق)
و کان السلف الصالح یکرھون ترک الزواج و یحضون غیر المتزوج علی الزواج ….قال عمر لابی الزوائد: ما یمنعک من النکاح إلاّ عجز أو فجور
وفی فتح الملھم:(6/316،318،دارالعلوم کراتشی)
اعلم أن النکاح ھو أعظم أرکان الحکمۃ المنزلیۃ و أساس الحیاۃ الاجتماعیۃ و ھو معین علی الدین و مھین للشیطان و حصن دون عدو اللہ حصین و سبب للتکثیر الذی بہ مباھاۃ سید المرسلین لسائر النبیین فما أحراہ بأن یتحری أسبابہ و تحفظ سننہ و آدابہ ….الفائدۃ الثانیۃ التحصن عن الشیطان و کسر التوقان و دفع غوائل الشھوۃ و غص البصر و حفظ الفرج….. فالنکاح بسبب دفع غائلۃ الشھوۃ مھم فی الدین لکل من لا یؤتی عن عجز و عنۃ…. و ان کان ملجما بلجام التقوی فغایتہ أن یکف الجوارح عن إجابۃ الشھوۃ فیغض البصر و یحفظ الفرج فأما حفظ القلب عن الوساوس و الفکر فلا یدخل تحت اختیارہ بل لا تزال النفس تجاذبہ و تحدثہ بأمور الوقاع و لا یفتر عنہ الشیطان الموسوس الیہ فی أکثر الاوقات

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:98

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔