الجواب حامداً ومصلیاً
اگر لڑکے والے مالداری، دینداری، برادری اور پیشے وغیرہ میں لڑکی والوں کے ہم پلہ ہیں پھر تو یہ نکاح منعقد ہو گیا ہے اور اگر ان چیزوں میں وہ ہم پلہ نہیں تو پھر یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔
لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 5/53 ،ر شیدیہ)
” والمرأة إذا أكرهت على النكاح ففعلت صح النكاح ولا ترجع على المكره . “
وفی التنویر و شرحہ مع الشامیہ: (3 /56 ، ایچ -ایم-سعید)
(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)۔وفی “الشامیہ “(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر
وفی الموسوعہ الفقیہ الکویتیہ: (41 / 249 ،علوم اسلامیہ )
والرواية الثانية: عن أبي حنيفة هي رواية الحسن عنه أنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى.
وکذا فی البحرا لرائق : (8 /136 ،رشیدیہ )
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ: (2 / 355، قدیمی)
وکذا فی المبسوط: (24 / 64، دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: (3 / 283 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6573،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-0-1440، 2019-03-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :51