سوال

ایک لڑکی کے والدین کا انتقال اس کے بچپن میں ہو گیا تھا،اور یہ اکیلی تھی اس کے چچا نے اسے اپنی کفالت میں لیا اور اپنے بیٹے سے اس کا نکاح کردیا،پھر اس کے چچاکا بھی انتقال ہو گیا تو ماموں نے اسے اپنی کفالت میں لے لیا اور بچی کو سمجھا دیا کہ جب تم بالغ ہو تو اسی وقت فورا اس نکاح سے ناراضی کا اظہار کر دینا اور اس نکاح کو ختم کر دینا ،لڑکی نے ایسا ہی کیا ،ماموں نے چند دن بعد اس کا نکاح اپنے بیٹے سے کر دیا اور رخصتی بھی ہو گئی ،آٹھ ماہ بعد چچا کے بیٹے کو علم ہوا تو اس نے واویلا مچا دیا ،پنچایت نے فتوی پر فیصلہ طے کیا ہے ،اس بارے میں شرعی حکم سے آگاہ کر دیں ۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں لڑکی کا بالغ ہوتے ہی نکاح سے ناراضی کا اظہار کرنے کے بعد عدالت کے ذریعے تنسیخ نکاح ضروری تھی۔اگرعدالت کے ذریعے پہلا نکاح فسخ کرایا گیا تھا تو دوسرا نکاح ٹھیک ہے ،ورنہ دوسرا نکاح درست نہیں ہے ،لڑکی اور ماموں کے بیٹے میں فوراً جدائی کروائی جائے اب تک اکٹھے رہنے پر توبہ استغفار بھی کریں ۔

لما فی کنزالدقائق :(100،101،حقانیہ)
“وللولی انکاح الصغیر والصغیرۃ،والولی العصبۃبترتیب الارث،ولھما خیارالفسخفی غیر الاب والجد بشرط القضاء.”
وفی ردالمحتار:(4/171،رشیدیہ)
وحاصلہ :انہ اذا کان المزوج للصغیر والصغیرۃ غیر الاب والجد ،فلھما الخیار بالبلوغ اوالعلم بہ ،فان اختارالفسخ لایثبت الفسخ الا بشرط القضاء
وکذا فی القدوری علی شرح اللباب:(2/146،قدیمی) وکذا فی الھدایہ:(2/296،297،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/57،داراحیاء تراث) وکذا فی الفتاوی البزازیہ:(4/125،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/94،95،97،فاروقیہ) وکذا فی تبیین الحقائق:(2/122،امدادیہ)
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(4/168الی170،رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ:(1/185،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
22/6/1440،2019/2/28
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:47

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔