سوال

ایک لڑکے کے کسی لڑکی سے ناجائز تعلقات قائم ہوئے جو کہ کچھ عرصہ چلے پھراس لڑکی کی شادی کسی اور سے ہو گئی اور شادی کے پانچ ماہ بعداس لڑکی نے بچہ جنا،اب اس بچے کے نسب اور مزنیہ کے غیر زانی سے ہونے والے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیاومسلما

صورت مسئولہ میں مزنیہ کا غیر زانی سے نکاح درست ہےاور بچے کا نسب صرف ماں سے ثابت ہو گا۔

لما فی الفتاویٰ الھند یہ:(1/280،رشیدیہ)
وقال ابو حنیفۃومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ: یجوز ان یتزوج امراۃ حاملا من الزنا ولا یطؤھا حتیٰ تضع وقال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ لا یصح والفتویٰ علیٰ قولھما
وفی فتاویٰ قاضیخان علیٰ ھامش الھندیہ:(1/366،رشیدیہ)
یجوز نکاح الحامل من الزناولا یقر بھا زوجھا حتیٰ تلد فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ وقال ابو یوسف رحمھما اللہ تعالیٰ لایجوز نکاحھا واذا رای الرجل امراۃ تزنی فتزوجھا جاز النکاح وللزوج ان یطا ھا من غیر استبراء وقال محمد رحمھ اللہ تعالیٰ لا احبّ لہ ان یطاھا من غیر ان یستبر ئھا
وفی البحر الرائق:(9/391،رشیدیہ)
ویرث ولد الزنا واللعان من جھۃ الام فقط لان نسبہ من جھۃ الاب منقطع فلا یرث بہ ومن جھۃ الام ثابت فیرث بہ امہ واختہ من الام بالفرض لا غیر
وکذا فی الشامیہ:(4/138،رشیدیہ)         ( وکذا فی بدائع الصنا ئع:(2/550،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق :(3/187،رشیدیہ)       وکذا فی الفتا ویٰ التا تار خانیہ:(4/67،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/108،دار احیاءتراث بیروت)        وکذافی مجمع الانھر:(1/485،المنار)
وکذا فی فتح القدیر:(3/232،رشیدیہ)          وکذا فی الھدایہ:(2/18،البشریٰ)
وکذا فی الموسو عہ الفقھیہ:(40/237،علوم اسلامیہ)     وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(1/239، دارالعلوم )

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/2/1443-2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:19

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔