سوال

ایک محلے والوں نے آپس میں پیسے جمع کر کے زمین خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دی، اس كے بعض حصہ پر مسجد بنی ہوئی ہے،اور بعض حصہ مسجد کا صحن ہے، اب جو حصہ صحن یعنی خالی جگہ ہے، شرکاء (محلے والوں)کا اس کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس میں مدرسہ بناتے ہیں،اور بعض کہتے ہیں اس جگہ کو مسجد کے لیے ہی چھوڑ دیتے ہیں، اس میں مدرسہ نہیں بناتے، تو آیا اس حصہ میں مدرسہ بنانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مذکورہ صورت میں اگر یہ صحن والی جگہ مسجد کی ضرورت سے زائد ہےاور مدرسہ بنانے میں مسجد و اہل محلہ کا فائدہ ہے تو مدرسہ بنانے کی گنجائش ہے۔

لما فی معارف السنن:(3/301،سعید )
قال الراقم: ومماتبین لی بعد فحص وبحث کثیر انہ اذا اجتمعت اموال کثیرۃ تزید علی اعادۃ بناء المسجد ان احتیج الیہ فیجوز صرف الزائد الی انشاء مدرسۃ ونشر علم وان لم یکن من شرط الواقف وعبارۃ الخانیہ فیہ صریحۃ وان کان قیدھاصاحب المھدیۃبغیر وقف المسجد ویکاد یجب لو کان ھناک وظیفۃ لضیاع مال المسجد المجتمع بغصب المتولی او غیرہ، وبالجملۃ اذا جوزو االتزخرف بہ من مال الوقف عند خوف الضیاع وجعلوا الدفع الی الفقراء اولی، وذکر فی المضمرات ان علیہ الفتوی
وکذا فی البحر الرئق: (5/418، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(2/ 430، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(6/548، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(9/136،احیاء تراث العربی)
وکذا فی فتاوی قاضی خان علی الھندیة:(3/291، رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(339،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3، 7، 1440،2019، 3، 11
فتوی نمبر:18 جلد نمبر:67

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔