سوال

ایک مسبوق نے اپنی رہی ہوئی فجر کی رکعت جماعت کے بعد مکمل کر لی،لیکن اس کے خیال میں یہ تھا کہ رکعت نہیں پڑھی،اس خیال کے تحت دوبارہ نماز شروع کی،تکبیر تحریمہ کے بعد ذہن میں آیا کہ رکعت پڑھ لی تھی۔یہ خیال آتے ہی اس نےشروع کی ہوئی نماز توڑ دی۔اب یہ فرمائیں کہ اس نے کچھ خلاف شریعت تو نہیں کیا؟اس پر کوئی مؤاخذہ تو نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس آدمی سے خلاف شریعت کوئی عمل صادر نہیں ہوا،لہذا اس پرکوئی مواخذہ نہیں۔

لما فی الشامیہ:(2/30،سعید)
رجل افتتح الظهر وهو يظن أنه لم يصلها فدخل رجل في صلاته يريد به التطوع، ثم ذكر الإمام أنه ليس عليه الظهر فرفض صلاته فلا شيء عليه ولا على من اقتدى به
وفی بدائع الصنائع:(2/7،رشیدیہ)
حتى لو شرع في الصلاة على ظن أنها عليه، ثم تبين أنها ليست عليه لا يلزمه المضي ولو أفسد لا يلزمه القضاء عند أصحابنا الثلاثة خلافا لزفر
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/300،قدیمی)
رجل شرع فی الصلاۃ علی انھا علیہ ثم تبین انھا لیست علیہ فافسدھا فانہ لایجب قضائھا
وکذافی ملتقی الابحر:(1/197،المنار)
وکذافی مجمع الانھر:(1/198،المنار)
وکذافی الدر المنتقی :(1/198،المنار)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/192،قدیمی)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/319،حقانیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/300،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 71

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔