سوال

ایک مستحق زکوة کسی دوکاندار کا مقروض ہے، ایک شخص اس دوکاندار کو زکوة کی رقم دیتا ہےاور کہتا ہے کہ فلاں مقروض کی طرف سے یہ رقم جمع کر لو، اس مقروض کو ابھی علم نہیں ہے بعد میں اس کوبتلائے گا تو کیا اس طرح زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ادائیگی زکوۃ کے لیے تملیک یعنی فقیر کو مالک بنانا شرط ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ یہ شرط نہیں پائی گئی اس لیے زکوۃ ادا نہیں ہوئی۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/143،رشیدیہ)
ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم
وفی البحر الرائق:(2/424،رشیدیہ)
قيد بقضاء دين الميت؛ لأنه لو قضى دين الحي إن قضاه بغير أمره يكون متبرعا، ولا يجزئه عن الزكاة وإن قضاه بأمره جاز، ويكون القابض كالوكيل له في قبض الصدقة
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(2/344،سعید)
وکذافی الشامیہ:(2/344،345،سعید)
وکذافی فتح القدیر:(2/272،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وکذافی البنایة:(3/544،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/462،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/370،الطارق)
وکذافی الھندیة:(1/190،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/179،الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 28

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔