سوال

ایک مسجد کا میٹر نہیں لگا ہوا، محلہ والوں نے ڈائریکٹ تار لگائی ہوئی ہے، پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ بجلی والوں کو پتہ ہے بلکہ ہم نے ایک مرتبہ میٹر کے پیسے بھی دیے ہیں، کیا اس طرح مسجد کی تار لگانا درست ہے، اور ایسی مسجد میں وضو نماز کا کیا حکم ہے، جبکہ محلہ میں دوسری مسجد بھی نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں اہلِ محلہ کا ڈائریکٹ تار لگانا درست نہیں ہے، قانونی طور پر میٹر لگوا کر بجلی استعمال کی جائے، ورنہ میٹر لگنے تک کسی قریبی گھر سے کنکشن لے لیا جائے اور ” سب میٹر “ لگوا کراس کے مطابق بل ادا کرتے رہیں، بصورت دیگر تمام اہلِ محلہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ البتہ ایسی مسجد میں وضو و نماز درست ہے۔

لما فی الشامیة: ( 3/62، رشیدیہ)
“قال فی المعراج: لأن طاعۃ الامام لیس بمعصیۃ فرض.”
وکذافی الھدایة: ( 2/167، رشیدیہ )
“اذ لا یجوز لأحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی کذا فی البحر الرائق.”
وکذافی رد المحتار: ( 2/520، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 5/68، رشیدیہ )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 28/296، علوم اسلامیہ )
وکذافی السنن الکبری: ( 6/160، دار الکتب )
وکذا فی المجلة لأحکام العدلیة: ( 27، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/107، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة : ( 2/405، الحرمین شریفین )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : ( 16/512،514، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :186

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔