سوال

ایک معذور آدمی کرسی کے اوپر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے،آیا اس کرسی کےنیچے والی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟اور اسی طرح کرسی کے اوپر بیٹھ کر اس کے پاؤں زمین پر لگ رہے ہیں یا اگر نہ بھی لگیں تو اس کے پاؤں کے نیچے والی جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ معذور کے پاؤں زمین پر لگنے یا نہ لگنے کی صورت میں اگر حکم میں کوئی فرق ہو تو وہ بھی واضح فرما دیں اور اسی طرح کرسی کا بھی پاک ہونا ضروری ہے کہ نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

کرسی کے نیچے کی جگہ اور کرسی کا وہ حصہ جو زمین کو چھورہا ہے،کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے۔البتہ بقیہ کرسی کا پاک ہونا ضروری ہے اور اگر کرسی پر بیٹھ کر پاؤں زمین پر رکھے ہوں تو پاؤں کے نیچے کی جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(2/20،دار إحیاء التراث)
وإذا صلی علی موضع نجس وفرش نعلیہ وقام علیہما جاز ولو کان لابسا لہما لا یجوز لأنہما یکونان تبعا لہ حینئذٍ۔۔۔۔۔۔إذا کان علی مکعبہ وعلی نعلیہ نجاسۃ جاز عند محمد رحمہ اللہ تعالیٰ خلافاً لأبی یوسف رحمہ اللہ تعالی ولو کان لم یخرج رجلیہ وصلی فیہما إن کان واسعا فہو علی الخلاف وإن کان ضیّقا لم یجز بلا خلاف
وفی الفتاوی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/62،رشیدیة)
ولو کانت الارض نجسۃ فخلع نعلیہ وقام علی نعلیہ جاز أما إذا کان النعل ظاہرہ وباطنہ طاہراً فطاہر وإن کان ما یلی الأرض منہ نجسا فکذالک وہو بمنزلۃ ثوب ذی طاقین أسفلہ نجس وقام علی الطاہر وقد مر وإن کان الرجل فی نعلیہ أو فی مکعبہ لا یجوز
وکذا فی کتاب التجنیس والمزید:(1/396،إدارة القرآن) وکذا فی النہر الفائق:(1/181،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/175،الطارق) وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/62،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/31،فاروقیة) وکذا فی البحر الرائق:(1/465،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/204،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوی البزازیة علی ہامش الہندیة:(4/34،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
01/05/1443/2021/12/07
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:18

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔