الجواب باسم ملھم الصواب
اگر مرحوم کی رہائش وہاں نہ ہوبلکہ تجارت کی غرض سےیا کسی اور ضروت سےوہاں گیا تھا،اس صورت میں اگرچہ پاکستان لانے کی بھی اجازت ہے،مگر بہتر یہی ہے کہ وہیں دفن کیا جائے،لیکن اگرمرحوم کی عارضی رہائش وہاں تھی تو پھر واپس لانا مکروہ گا۔
لما فی الفتاوی الھندية:(1/167،رشیدیہ)
ویستحب فی القتیل والمیت دفنہ فی المکان الذی مات فی مقابر اولئک القوم ،وان نقل قبل الدفن الی قدر میل او میلین فلاباس بہ ،وکذا لو مات فی غیربلدہ یستحب ترکہ،فان نقل الی مصر آخرلا باس بہ.
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/66،داراحیا تراث)
وکذا فی ردالمحتار:(2/239،سعید)
وکذا فی التاتارخانیہ:(18/161،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1537،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(4/345،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی التجنیس:(2/282،ادارۃالقرآن)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :2