سوال

ایک کاریگر کے ساتھ یہ معاملہ طے ہوا کہ وہ سریہ کاٹنے کے لیے فی سریہ 10روپے لے گا جب کہ بازار میں 6تا7روپے فی سریہ دوسرے کاریگر لے رہے ہیں، اور یہ کام بھی مسجد کا ہے ،توکاریگر کو طےشدہ قیمت دی جائے گی یا جوبازار میں دوسرے کاریگر لے رہے ہیں وہ دی جائے گی ؟یادرہے کہ مسجد کی انتظامیہ کو بازاری اجرت کا پہلے سے علم نہیں تھا۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

فی سریہ کاٹنے کی 10روپے اجرت لینا بازار میں معروف نہیں ہے ،اس لیے انتظامیہ یہ معاملہ ختم کر سکتی ہے، اور اگر کام شروع کر لیا ہوتوبازار میں معروف اجرت دی جائے گی ،انتظامیہ کو چاہیے کہ اچھی طرح معلومات لے کر معاملہ کیا کریں۔

لما فی شرح المجلة: (2/335،رشیدیہ)
“اذا وجد غبن فاحش فی البیع ولم یوجد تغریر فلیس للمغبون ان یفسخ البیع الا انہ اذا وجد الغبن وحدہ فی مال الیتیم لا یصح البیع ومال الوقف وبیت المال حکمہ حکم مال الیتیم)الغبن الفاحش ھو مالا یدخل تحت تقویم المقومین ھو الصحیح.”
وکذافی الشامیة: (7/376،رشیدیہ)
وفیہ ایضا:(7/379،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (4/3070 ،رشیدیہ )
وکذا فی ا لتاتارخانیة: (8/181 ،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة: (3/161 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :81

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔