الجواب حامداً ومصلیاً
فی سریہ کاٹنے کی 10روپے اجرت لینا بازار میں معروف نہیں ہے ،اس لیے انتظامیہ یہ معاملہ ختم کر سکتی ہے، اور اگر کام شروع کر لیا ہوتوبازار میں معروف اجرت دی جائے گی ،انتظامیہ کو چاہیے کہ اچھی طرح معلومات لے کر معاملہ کیا کریں۔
لما فی شرح المجلة: (2/335،رشیدیہ)
“اذا وجد غبن فاحش فی البیع ولم یوجد تغریر فلیس للمغبون ان یفسخ البیع الا انہ اذا وجد الغبن وحدہ فی مال الیتیم لا یصح البیع ومال الوقف وبیت المال حکمہ حکم مال الیتیم)الغبن الفاحش ھو مالا یدخل تحت تقویم المقومین ھو الصحیح.”
وکذافی الشامیة: (7/376،رشیدیہ)
وفیہ ایضا:(7/379،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (4/3070 ،رشیدیہ )
وکذا فی ا لتاتارخانیة: (8/181 ،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة: (3/161 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :81