الجواب حامداً ومصلیاً
کمپنی کا یہ طے کرنا کہ وہ انویسٹر کو اس کی انویسٹمنٹ کا 8 پرسینٹ سے 13 پرسینٹ تک نفع دے گی مثلا ایک لاکھ پر۔/ 8000 سے۔/ 13000 روپے تک نفع دے گی یہ صورت جائزنہیں بلکہ کمپنی کا کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین کرنا ضروری ہے ،مثلا کل نفع کا 8 پرسینٹ یا کم و بیش۔
نیز اگرکمپنی کی شرائط میں طے ہے کہ نقصان کی صورت میں بھی کمپنی اپنے انویسٹر کو 8 پرسینٹ دے گی تو یہ بھی جائز نہیں ہے ۔اگر کمپنی معاہدے میں خود نقصان برداشت کرنے کی شرط نہیں لگاتی بلکہ بغیر کسی شرط کے خود نقصان برداشت کرتی ہے تو یہ کمپنی کا احسان ہے اور کاروبار کے اصولوں کے بھی خلاف نہیں،اس لئے یہ جائز ہوگا۔
لما فی بدائع الصنائع للکاسانی:(5/77،رشیدیہ)
ان یکون الربح جزءاً شائعا فی الجملۃ لا معینا فان عینا عشرۃ أومائۃ أو نحو ذلک کانت الشرکۃ الفاسدۃ لأن العقد یقتضی تححقق الشرکۃ فی الربح والتعین یقطع الشرکۃ لجواز أن لا یحصل من الربح الا القدر المعین لأحدھما فلا یتحقق الشرکۃ فی الربح
وفی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(3/161،رشیدیہ)
ومنھا إذا شرط علی المضارب لأحدھما من الربح ما یقطع الشرکۃ نحو أن یجعل لہ دراھم مسماۃ مائۃ أو قل أو أکثر فسدت المضاربۃ
وکذافی رد المحتار:(8/501،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(4/287،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/544،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(18/126،داراحیاء تراث)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(346،البشریٰ)
وکذافی شرح المجلہ:(4/260،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر علی ھامش ملتقی الابحر:(2/544،المنار)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(2/352،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:169