الجواب حامداً ومصلیا
(1)
اگر تو مسلمانوں کے کپڑے علیحدہ دھوئے جاتے ہیں تو حکم یہ ہے کہ کپڑے اپنی حالت پر رہیں گے،یعنی پاک کپڑے دیے تھے تودھلنے کے بعد بھی پاک ہوں گے ،ناپاک دیے تھے تو بعد میں بھی ناپاک ہوں گے۔(2)اگر مسلم وغیر مسلم کے کپڑے اکٹھے دھلتے ہیں تب بھی حکم تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا،لیکن چونکہ غیر مسلموں کے کپڑوں سے متعلق پاکی یا ناپاکی کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ،لہذا اپنے دھوبی کو احتیاطا اس بات کا پابند کر دیا جائےکہ کپڑے دھلنے کے بعد ان کو تین مرتبہ الگ الگ پانی سے اچھا طرح نچوڑ دیا کرےیا بڑے تالاب یا بہتے ہوئے پانی مثلا ٹونٹی کے نیچےاچھی طرح دھو لیا کرے۔(3)غیر مسلم کے ہاتھ پر اگر ظاہری طور پر نجاست نہ لگی ہو تو ہاتھ لگانے سے کپڑا ناپاک نہ ہو گا۔
لما فی الشامیة:(1/310،رشیدیہ)
قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار؛ وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا
وفی الھندیہ:(1/41،رشیدیہ)
ثوب نجس غسل في ثلاث جفان أو في واحدة ثلاثا وعصر في كل مرة طهر لجريان العادة بالغسل. هكذا فلو لم يطهر لضاق على الناس
وکذافی التتارخانیہ:(1/269،فاروقیہ)
وکذلک الثیاب التی ینسجھا أھل الشرک أو الجھلۃ من أھل الاسلام ،وکذلک الحباب الموضوعۃ أو المرکبۃ فی الطرقات والسقایات التی یتوھم فیھا اصابۃ النجاسۃ کل ذلک محکوم بطہارتہ حتی یتیقن بنجاستھا
وکذا فی البدائع:(1/236،241،رشیدیہ) وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/73،78،بشری)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(/60،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(1/412،رشیدیہ)
وکذا فی عمدة القاری:(4/69،داراحیاء)
واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:173