سوال

ایک کمپنی کے ملازم کو کمپنی والوں نے دوسرے شہر کام کےلیے بھیجا،وہاں کےہوٹل کی رہائش اور کھانے پینے کا خرچ کمپنی کی طرف سے ادا کیا گیا،اس نے وہاں جا کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش رکھ لی ، اب جو خرچ ملا تھا وہ بچ گیا تو کیا ملازم اس کو رکھ سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

عام طور پر ادار ےوالےملازم کو وہ رقم امانۃ دیتے ہیں ،لہذا اس صورت میں بقیہ رقم واپس کرنا ضروری ہے۔البتہ اگر کسی کمپنی کی طرف سے اس رقم کا مالک بنا دیا جاتا ہے تو اس کا رکھنا جائز ہو گا ۔

لما فی البرجندی :(3/83،حقانیہ)
ولا یضمن ما ھلک فی یدہ بان سرق او غصب لان العین امانۃ فی یدہ قبض باذنہ وہذا بالاتفاق
وفی المبسوط:(22/63،دارالمعرفہ)
ثم المستحق نفقة المثل، وهو المعروف، كما في نفقة الزوجة، فإن أنفق أكثر من ذلك حسب له من ذلك نفقة مثله وكان ما بقي عليه في ماله، فإذا رجع إلى مثله، وقد بقي معه ثياب أو طعام أو غيره، رده في مال المضاربة؛ لأن استحقاقه قد انتهى برجوعه إلى مصره فعليه رد ما بقي، كالحاج عن الغير إذا بقي معه شيء من النفقة بعد رجوعه
وکذافی فتح القدیر:(8/498،رشیدیہ)
واذا اخذ شیئا للنفقۃ وھو مسافر فقدم وبقی معہ شیئ منہ ردہ فی المضاربۃ لانتھاء الاستحقاق ….والنفقہ ما تصرف الی الحاجۃ الراتبۃ کالطعام والشراب وکسوتہ ورکوبہ شراء او کراء کل ذلک بالمعروف
وکذا فی الشامیة:(8/516،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(2/30،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(7/458،459،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(15/445،4450،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 181

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔